باب 28

قوت اور نرمی کا توازن

知其雄,守其雌,为天下谿。为天下谿,常德不离,复归于婴儿。
知其白,守其黑,为天下式。为天下式,常德不忒,复归于无极。
知其荣,守其辱,为天下谷。为天下谷,常德乃足,复归于朴。
朴散则为器,圣人用之则为官长。故大制不割。
جو اپنی مردانہ قوت کو جانتا ہے مگر عورت کی نرمی کو اپناتا ہے، وہ دنیا کا نالہ بن جاتا ہے۔ دنیا کا نالہ بن کر، ابدی خوبی اس سے جدا نہیں ہوتی، اور وہ پھر سے بچے کی معصومیت میں لوٹ جاتا ہے۔ جو اپنی روشنی کو جانتا ہے مگر اندھیرے کو اپناتا ہے، وہ دنیا کے لیے نمونہ بن جاتا ہے۔ دنیا کا نمونہ بن کر، ابدی خوبی بے عیب رہتی ہے، اور وہ لامحدود میں لوٹ جاتا ہے۔ جو اپنی عزت کو جانتا ہے مگر ذلت کو اپناتا ہے، وہ دنیا کی وادی بن جاتا ہے۔ دنیا کی وادی بن کر، ابدی خوبی پوری ہو جاتی ہے، اور وہ سادگی میں لوٹ جاتا ہے۔ جب سادگی بکھر جاتی ہے تو اوزار بنتے ہیں، اور عقلمند ان کا استعمال کر کے حاکم بنتا ہے۔ اس لیے عظیم نظام تقسیم نہیں کرتا۔

گہرا غور

یہ باب کس بارے میں ہے؟

یہ باب سکھاتا ہے کہ حقیقی طاقت مخالف صفات کے توازن میں ہے: مردانہ قوت اور زنانہ نرمی، روشنی اور اندھیرا، عزت اور ذلت۔ یہ توازن ہمیں اصلی سادگی اور ابدی خوبی کی طرف لوٹاتا ہے۔

اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟

میری زندگی میں، یہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ مجھے اپنی مضبوطی اور نرمی دونوں کو اپنانا چاہیے۔ جب میں کامیاب ہوں تو عاجز رہوں، اور جب ناکام ہوں تو سیکھوں۔ یہ توازن مجھے اندرونی سکون دیتا ہے۔

آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟

آج، ایک ایسی صورتحال میں جہاں میں اپنی رائے پر اصرار کرنا چاہتا ہوں، میں خاموش رہ کر دوسروں کو سنوں گا اور ان کی بات کو سمجھوں گا۔

متعلقہ ابواب

میرا غور

یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟

اس باب کے بارے میں لاؤتزو سے پوچھیں مکمل چیٹ →