Chapter 69
جنگ کے راز
اصل
是谓行无行,攘无臂,扔无敌,执无兵。
祸莫大于轻敌,轻敌几丧吾宝。故抗兵相加,哀者胜矣。
ترجمہ
یہ ہے آگے بڑھنا جیسے کوئی صف نہ ہو، بازو اٹھانا جیسے کوئی بازو نہ ہو، دشمن کا مقابلہ جیسے کوئی دشمن نہ ہو، ہتھیار تھامنا جیسے کوئی ہتھیار نہ ہو۔
سب سے بڑی بدشگونی دشمن کو ہلکا سمجھنا ہے، دشمن کو ہلکا سمجھنا تقریباً میرے تینوں خزانوں کو ضائع کر دیتا ہے۔ اس لیے جب دو فوجیں آمنے سامنے ہوں تو جو مہربانی والے ہیں وہی فتح پاتے ہیں۔
ڈونگھا سوچ
ایہ باب کسے بارے وچ اے؟
یہ ابواب کہتا ہے کہ اصل جنگجو کی حکمت پیچھے ہٹنے میں ہے۔ اپنے آپ کو چھوٹا رکھنا اور دفاع کرنا ہی اصل فتح ہے۔ دشمن کو کمزور سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ جو مہربانی سے لڑتا ہے وہی فتح پاتا ہے۔
میرا اس سے کیا تعلق ہے؟
میری زندگی میں بھی ایسے مواقع آتے ہیں جب میں اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر حملہ کرنے لگتا ہوں۔ میں اکثر اپنے مخالف کو کمزور سمجھتا ہوں اور اسے ہلکا لیتا ہوں۔ مگر تاؤ کہتا ہے کہ یہی میرا زوال ہوتا ہے۔ میرے تجربات میں جب میں نے عاجزی سے کام لیا ہے، نتائج اچھے نکلے ہیں۔
آج مینوں کی کرنا چاہیدا اے؟
آج میں کسی ایسے کام میں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے رہوں گا جو فطرتاً میرا نہیں ہے۔ کسی ایسے شخص کی عزت کروں گا جسے میں چھوٹا سمجھتا تھا۔ اور اپنے آپ کو معمولی رکھ کر دیکھوں گا کہ نتیجہ کیا نکلتا ہے۔
متعلقہ ابواب
میرا غور و فکر
اس باب آپ کو کیا متاثر کرتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟