ساری دنیا کہ�تی ہے کہ میرا تاؤ بڑا ہے، مگر یہ کسی اور چیز سے ملتا جُلتا نہیں ہے۔ صرف اس لیے کہ یہ بڑا ہے، اس لیے یہ کسی اور چیز سے مختلف نظر آتا ہے۔ اگر یہ کسی اور جیسا ہوتا تو بہت پہلے ہی چھوٹا ہو جاتا۔
میرے پاس تین قیمتی خزانے ہیں جنہیں میں پکڑ کر رکھتا ہوں: پہلا ہے مہربانی، دوسرا ہے کفایت شعاری، اور تیسرا ہے کہ دنیا میں سب سے پیچھے رہنا۔
مہربانی کی وجہ سے بہادری ہو سکتی ہے، کفایت شعاری کی وجہ سے وسعت ہو سکتی ہے، اور سب سے پیچھے رہنے کی وجہ سے رہنما بنا جا سکتا ہے۔
اب اگر مہربانی چھوڑ کر بہادری مانگی جائے، کفایت شعاری چھوڑ کر وسعت مانگی جائے، پیچھے رہنا چھوڑ کر آگے نکلنا مانگا جائے تو موت ہی نتیجہ ہے! مہربانی کے ساتھ لڑنے پر فتح ہوتی ہے اور بچاؤ پر مضبوطی۔ جب آسمان کسی کو بچانا چاہتا ہے تو اسے مہربانی سے محفوظ رکھتا ہے۔
ڈونگھا سوچ
ایہ باب کسے بارے وچ اے؟
یہ ابواب کہتا ہے کہ تاؤ کی عظمت اس کی مختلف ہونے میں ہے۔ تاؤ نے تین قیمتی خزانے بتائے ہیں: مہربانی، کفایت شعاری، اور عاجزی۔ ان تینوں کے بغیر انسان مر死不ے کا شکار ہو جاتا ہے۔ مہربانی سب سے بڑی طاقت ہے جو کسی کو فتح اور سلامتی دے سکتی ہے۔
میرا اس سے کیا تعلق ہے؟
روزانہ کی دوڑ میں میں اکثر اپنی تیزی اور جوش کو ترجیح دیتا ہوں۔ مہربانی کو کمزوری سمجھ کر سختی کو طاقت سمجھتا ہوں۔ مگر تاؤ کہتا ہے کہ اصل طاقت نرمی میں ہے۔ میری زندگی میں جب میں نے دوسروں پر رحم کیا ہے، میرے دل میں سکون آیا ہے اور لوگوں نے میرا احترام کیا ہے۔
آج مینوں کی کرنا چاہیدا اے؟
آج میں کسی ایسے شخص کے ساتھ نرمی سے پیش آؤں گا جو میرے خلاف ہے۔ کسی ایسے کام میں پیچھے رہوں گا جس میں سبقت ممکن ہو۔ اور کسی چیز کو بچا کر رکھوں گا جو میں فضول خرچ کرنے والا تھا۔
All the world says that, while my Tao is great, it yet appears to be inferior (to other systems of teaching). Now it is just its greatness that makes it seem to be inferior. But I have three precious things which I prize and hold fast. The first is gentleness; the second is economy; and the third is shrinking from taking precedence of others.
AI جدید
ساری دنیا کہ�تی ہے کہ میرا تاؤ بڑا ہے، مگر یہ کسی اور چیز سے ملتا جُلتا نہیں ہے۔ صرف اس لیے کہ یہ بڑا ہے، اس لیے یہ کسی اور چیز سے مختلف نظر آتا ہے۔ اگر یہ کسی اور جیسا ہوتا تو بہت پہلے ہی چھوٹا ہو جاتا۔
میرے پاس تین قیمتی خزانے ہیں جنہیں میں پکڑ کر رکھتا ہوں: پہلا ہے مہربانی، دوسرا ہے کفایت شعاری، اور تیسرا ہے کہ دنیا میں سب سے پیچھے رہنا۔
مہربانی کی وجہ سے بہادری ہو سکتی ہے، کفایت شعاری کی وجہ سے وسعت ہو سکتی ہے، اور سب سے پیچھے رہنے کی وجہ سے رہنما بنا جا سکتا ہے۔
اب اگر مہربانی چھوڑ کر بہادری مانگی جائے، کفایت شعاری چھوڑ کر وسعت مانگی جائے، پیچھے رہنا چھوڑ کر آگے نکلنا مانگا جائے تو موت ہی نتیجہ ہے! مہربانی کے ساتھ لڑنے پر فتح ہوتی ہے اور بچاؤ پر مضبوطی۔ جب آسمان کسی کو بچانا چاہتا ہے تو اسے مہربانی سے محفوظ رکھتا ہے۔
میرا غور و فکر
اس باب آپ کو کیا متاثر کرتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟