باب 3
قابلوں کو اہمیت نہ دو
اصل
不尚贤,使民不争;不贵难得之货,使民不为盗;不见可欲,使民心不乱。
是以圣人之治,虚其心,实其腹,弱其志,强其骨。常使民无知无欲,使夫智者不敢为也。为无为,则无不治。
是以圣人之治,虚其心,实其腹,弱其志,强其骨。常使民无知无欲,使夫智者不敢为也。为无为,则无不治。
ترجمہ
قابلوں کو اہمیت نہ دو، تاکہ لوگ آپس میں نہ لڑیں۔ نایاب اشیاء کو قیمتی نہ سمجھو، تاکہ لوگ چوری نہ کریں۔ خواہش کی چیزوں کو نہ دکھاؤ، تاکہ لوگوں کے دل پریشان نہ ہوں۔ اس لیے حکیم کی حکمرانی میں، وہ لوگوں کے دلوں کو خالی کرتا ہے، ان کے پیٹ بھرتا ہے، ان کی خواہشوں کو کمزور کرتا ہے، ان کی ہڈیوں کو مضبوط کرتا ہے۔ وہ لوگوں کو علم اور خواہش سے پاک رکھتا ہے، اور عقلمندوں کو جرات نہیں دیتا کہ وہ عمل کریں۔ بغیر عمل کے عمل کرو، تو سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے۔
گہرا غور
یہ باب کس بارے میں ہے؟
یہ باب بتاتا ہے کہ معاشرے میں جب ہم قابلیت اور نایاب چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں، تو لوگ لڑتے اور چوری کرتے ہیں۔ حکیم لوگوں کو سادہ اور بے خواہش رکھتا ہے، تاکہ وہ امن اور توازن میں رہیں۔
اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟
میری زندگی میں یہ مجھے سکھاتا ہے کہ میں دوسروں کی قابلیت یا دولت سے متاثر نہ ہوں۔ مجھے اپنے دل کو خالی رکھنا چاہیے اور سادگی میں خوش رہنا چاہیے۔ خواہشوں سے پاک ہو کر میں امن پا سکتا ہوں۔
آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟
آج ایک کام کروں گا: میں اپنی خواہشوں کی فہرست بناؤں گا اور ان میں سے ایک خواہش کو چھوڑ دوں گا، تاکہ میں سادگی اور امن کی طرف بڑھ سکوں۔
متعلقہ ابواب
میرا غور
یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟