باب 67

تین خزانے

天下皆谓我道大,似不肖。夫唯大,故似不肖。若肖,久矣其细也夫!
我有三宝,持而保之:一曰慈,二曰俭,三曰不敢为天下先。
慈故能勇,俭故能广,不敢为天下先故能成器长。
今舍慈且勇,舍俭且广,舍后且先,死矣!夫慈,以战则胜,以守则固。天将救之,以慈卫之。
دنیا کہتی ہے کہ میری راہ بڑی ہے، مگر بے مثال ہے۔ بے مثال ہی تو بڑی ہے۔ اگر مثال ہوتی تو کب کی چھوٹی ہو چکی ہوتی۔
میرے پاس تین خزانے ہیں، جنہیں میں تھامے اور سنبھالے رکھتا ہوں: پہلا رحم، دوسرا سادگی، تیسرا دنیا میں سب سے آگے نہ بڑھنا۔
رحم سے دلیری آتی ہے، سادگی سے فراخی آتی ہے، سب سے آگے نہ بڑھنے سے قائدانہ صلاحیت آتی ہے۔
آج لوگ رحم چھوڑ کر دلیر بنتے ہیں، سادگی چھوڑ کر فراخی چاہتے ہیں، پیچھے رہنا چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں—یہ موت ہے۔
رحم سے جنگ جیتی جاتی ہے، دفاع مضبوط ہوتا ہے۔ آسمان جس کی مدد کرے، اسے رحم سے محفوظ رکھتا ہے۔

گہرا غور

یہ باب کس بارے میں ہے؟

یہ باب تین اہم اصولوں کی تعلیم دیتا ہے: رحم، سادگی، اور عاجزی۔ یہ بتاتا ہے کہ حقیقی طاقت انہی خوبیوں سے آتی ہے، نہ کہ ظاہری جارحیت سے۔

اس کا مجھ سے کیا تعلق ہے؟

میری زندگی میں یہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ رحم اور سادگی کو اپنا کر میں زیادہ مؤثر اور پرامن ہو سکتا ہوں، بجائے اس کے کہ ہمیشہ آگے بڑھنے کی دوڑ میں لگا رہوں۔

آج مجھے کیا کرنا چاہیے؟

آج میں کسی سے نرمی اور رحم سے پیش آؤں گا، چاہے وہ مشکل وقت ہی کیوں نہ ہو، اور اپنی ضروریات کو کم سے کم رکھوں گا۔

متعلقہ ابواب

میرا غور

یہ باب آپ کو کیا ترغیب دیتا ہے؟ آپ اسے کیسے لاگو کریں گے؟

اس باب کے بارے میں لاؤتزو سے پوچھیں مکمل چیٹ →